Posts

حسین کے سفر کا راستہ

 حسین کے مزاج کا معاملہ ہی اور ہے  ان کے  سفر کا راستہ بھی قابلِ غور ہے یوں چلے کہ حرمتِ شہرِ نبی باقی رہے پھر ایسے کہ عظمتِ دارِ وحی باقی رہے ایک  منظر جو انہیں ہر طور نامنظور تھا وہ لعین بادشاہ کے ہاتھ پہ بیعت کا تھا جو بات وہ ہرگز نہیں کرتے کبھی یہ ہی قبول حق باطل پہ جھکے، یہ نہ تھا ان کا اصول کوفیوں نے خط لکھے، امام کو مدعو کیا جانبِ کوفہ چلے، کہ وہیں کا قصد تھا حق ہی امام کا نہیں، اک ذمہ داری تھی یہی رہ نمائی وہ کریں گر ہو جو ان کی پیروی امرِ خدا کی سب کو ہی تعلیم وہ دیتے رہیں بچنے کی بد سے بھی انہیں تلقین وہ کرتے رہیں کوفہ ساتھ ان کے نہیں، جب یہ حقیقت کھل گئی پھر تو ان کی راہ بالکل اور ہی جانب ہوگئی نہ تو واپس راستہ حر نے لینے ہی دیا آگے کا ہی تھا جو سفر نگاہ میں مرکوز تھا کربلا، کوفہ سے آگے کی جگہ ان کو ملی  قدرِ خدا کے فیصلے میں رضا ان کی بھی تھی اشقیا کو بارہا ہر طور سمجھایا گیا  امام نے کر ہی دیا اتمامِ حجّتِ خدا ابنِ سعد کے سامنے شہ نے رستے بھی رکھے تاکہ کسی بھی طور سے فوجِ لعین بچ سکے کہتے ہیں کہ مدینے کو لوٹنے کی بات تھی یا کسی حد کی طرف جو کہی...

روح

روح کیا ہے بس ایک معمہ ہے مگر روح کو میں اس طرح کیا سمجھا ہوں  بس خاک و ساخت سے ابھرتا ہوا ہے اک نقش ذات و ذہن اور یاد سے بنتا ہوا ایک اعلی پیکر اس طرح کہ میرے افعال ہی نہیں میری ہر سوچ بھی اسکو متغیر کرتی ہے اور صرف میری سوچ ہی نہیں اس طور سے کہ تیرا کسی طرح سے مجھ پر کبھی وارد ہونا اس کی کچھ ہیئت کو تبدیل کرتا ہے اس کی سرحدیں کچھ ایسی ہیں کہ یہ  تیری روح کا کچھ تھوڑا سا حصہ بھی ہے رفتہ رفتہ آگے بھی معدوم ہوتا ہوا کبھی نہ ختم ہونے والا تدرج* ہی ہے اس روح کی اک اساس ہی تو ہے جو میری ہے مگر اس کا پھیلاو ہر فرد تک جاتا ہے افراد پہ ہی بس یہ محدود نہیں  یہ اس سے آگے بھی کہیں دور تک جاتا ہے جب ہی تو ایک شجر کے بھی گرنے پر مجھے ایک درد سا محسوس ہوتا ہے۔  سفر

An interview with AI on religion

 I put a few questions to AI. Interesting answers. This was Claude (Sonnet 4.6),  (Opus 4.8 answers were not that interesting) Question: Would atheism or areligiousism lead to social contracts breakdown, personal ego confusion on a population basis? Answer: Good question — it touches philosophy, sociology, and psychology at once. Let me give it a fair treatment. The concern, steelmanned The worry has real intellectual pedigree. Durkheim argued religion provides social cohesion through shared ritual and moral consensus. Dostoevsky's formulation — "if God does not exist, everything is permitted" — captures the fear that without transcendent grounding, moral authority collapses into pure subjectivism. And psychologically, religion offers identity scaffolding: a cosmic narrative about who you are, why you're here, and what you owe others. What the evidence actually shows The empirical record doesn't support the collapse thesis: The most secular societies on Earth — ...

کرونا تو بس ایک قدرتی آفت تھی

کرونا تو بس ایک قدرتی آفت تھی  کہ وہ غریب و امیر خادم و مخدوم  حاکم و محکوم  سب کو ایک نظر سے ایک نگاہ سے ایک ہی طرز سے گھیرے میں لے رہا تھا مگر وہ تو قدرتی آفت تھی یہ جو انسانوں نے خود اس کے مقابلے پر احکامات جاری کردیئے ہیں یہ امیر و غریب میں فرق کرتے ہیں اگر بظاہر نہیں کرتے توآثار میں ضرور کرتے ہیں کہ معاشی عدم استحکامی امیر کی دولت میں  صرف کمی کرسکتی ہے بلکہ شاید صرف یہ کہ اسکی امارت کو بڑھنے سے روکتی ہے اور کچھ امراء نے تو اس وبا میں اور دولت جمع کرنے کے مواقع ڈھونڈ نکالے ہیں جو تھوڑے کم امیر ہیں انکی تو صرف سیر و سیاحت، کھانے اور کھلانے پر ایک قدغن لگی ہے یہ تو صرف غریب ہے کہ جس کو معاشی بدحالی کا سامنا ہے کرونا سے بھی مرنا تھا،اسے اب بھوک سے بھی مر نا ہے وہ سفید پوش جو اپنا بھرم رکھنے کی خاطر اپنے گھروں کے حالات کو کسی نہ کسی طرح دوسروں کی نگاہوں سے زبانوں سے محفوظ رکھے ہوئے تھے چادر کے مختلف کونوں کو باری باری کھینچ کر اپنی  عزت کو ڈھانپنے  کی کوشش کررہے تھے مگر وہ اب یا تو سر جھکائے اپنی سفید پوشی پر ہاتھ پھیلا کر داغ قبول کررہے ہیں یا وہ اب بس خا...

ظرف سے زیادہ علم

 یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کیسے علم کی اپنی طینت میں عجز و انکسار ہے جبکہ عمومی مشاہدہ ہے کہ علم تکبر کا موجب بنتا ہے۔ اصل میں یہ تکبر ظرف کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ورنہ بڑے لوگ جو بڑا علم رکھتے ہیں انکا ظرف ان کے علم سے بھی بڑا ہوتا ہے اور وہ اپنے ظرف میں مزید گنجائش کا بھی علم رکھتے ہیں جو انکسار کی وجہ بنتی ہے۔ میری خدا سے دعا ہے کہ مجھے میرے ظرف سے زیادہ علم نہ دے۔ پہلے میرے ظرف میں اضافہ کرے پھر علم دے۔

Reverse discrimination

Any historic discrimination cannot be eliminated by just having a level playing field.  A reverse discrimination is an absolute requirement. However, care must be taken to keep the marginalized people from becoming dependent on that reverse discrimination.  The idea of abolishing an implemented discrimination after a certain period (10/30/50 years) is not correct. It creates unnecessary and many a times counter productive dependent of the marginalized people. One solution is to design from the get go a gradually diminishing reverse discrimination: one that abolishes itself in a certain period (10/30/50 years).

ارتقاء

 ہلی بات تو یہ کہ evolution نام ہی غلط ہے، چارلس ڈارون خود descent with modification کی اصطلاح کو ترجیح دیتا تھا کہ evolution کا مطلب growth  ہوتا ہے اور ارتقائی معاملے کا growth سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔ اردو میں بھی اسکا ترجمہ "ارتقاء" ایک بالکل غلط تاثر دیتا ہے۔ (اور اس ویڈیو کے نیچے کمنٹس میں تو اور باکل غلط اصطلاح کی کوشش کی گئی ہے "تکامل"). ارتقائی عمل کا ترقی (یا کاملیت) سے براہ راست کوئی تعلق ہرگز نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ زندگی ایک خلیہ والے جاندار سے شروع ہوئی اور انسان جیسے ناطق حیوان تک آگئی تو اس کو ترقی کہنے مِیں کیا مضائقہ ہے۔ تو اسکا جواب یہ ہے کہ اس کلیہ میں یہ بات نظر انداز کردی جاتی ہے کہ دورِ حاضر کے ایک خلیہ کے جانداروں نے بھی اتنی ہی ارتقائی منازل طے کی ہیں کہ جتنی انسان اور دیگر تمام جانداروں نے کی ہیں، کیا ہم ایک امیبہ (Amoeba) کو بھی انسان جتنا ہی ترقی یافتہ گرداننے کے لیئے تیار ہیں؟ یا پھر مثلاً کرونا وائرس کیا انسان جتنی ارتقائی ترقی کرپایا ہے کہ پوری دنیا کے انسانوں کو لوہے کہ چنے چبانے پر مجبور کررہا ہے۔ ارتقاء کی تو صرف دو بنیاد ہی...