جب بھی کہ دنیا سے مری رخصت قرین ہو
جب بھی کہ دنیا سے مری رخصت قرین ہومیرا ہو وقت تو جھکی میری جبین ہو
میری دعا ہے جو بھی عبادت نہیں ہوئیمیں ہوں مری ہی ذات جو میرا یقین ہو
سجدے کریں جو یوں مری طینت کی تربیتمائل مرا مزاج بہ خاکِ زمین ہو
میرے ہی ذہن میں ہو جو دنیا کے واسطےمیرے ہی قلب میں ہو جو تو اک مکین ہو
تم تو سفرؔ ذرا سا ارادہ کیا …
میری دعا ہے جو بھی عبادت نہیں ہوئیمیں ہوں مری ہی ذات جو میرا یقین ہو
سجدے کریں جو یوں مری طینت کی تربیتمائل مرا مزاج بہ خاکِ زمین ہو
میرے ہی ذہن میں ہو جو دنیا کے واسطےمیرے ہی قلب میں ہو جو تو اک مکین ہو
تم تو سفرؔ ذرا سا ارادہ کیا …